حقیقت توحید
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک انسان، نیچر کو معبود کا درجہ دیتا رہا۔ چناں چہ دنیا میں عمومی طور پر وہ نظام پرستش رائج ہوا جس کو فطرت پرستی (nature worship) کہا جاتا ہے۔ سورج، چاند، پہاڑ، دریا، سمندر اور دوسری چیزوں کے بارے میں انسان نے یہ فرض کر لیا کہ اُن کے اندر اُلوہیت (divinity) موجود ہے۔ اِس مفروضہ کی بنا پر، نیچر کی ہر چیز انسان کے لیے قابلِ پرستش بن گئی۔ دورِ سائنس جدید سائنس کے زمانے میں نیچر کی ہر چیز کو تحقیق کا موضوع بنایا گیا، ہر چیز کا آزادانہ مطالعہ کیا جانے لگا۔ اِس تحقیق سے معلوم ہوا کہ نیچر صرف نیچر ہے، اُس میں کسی بھی قسم کی الوہیت (divinity) موجود نہیں۔ اِس دریافت کے بعد فطرت پرستی (nature worship) کا افسانہ ختم ہو گیا۔ نیچر نے معبود ہونے کی حیثیت کو کھو دیا۔ اِس کے بعد موجودہ زمانے میں صنعتی تہذیب (industrial civilization) کا دور شروع ہوا۔ اِس جدید تہذیب سے انسان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader