دورِ سائنس
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس طرح صنعتی تہذیب کا مفروضہ معبود بھی ایک باطل معبود ثابت ہوا۔ اب انسان نے ایک اور معبود تلاش کیا۔ یہ معبود انسان کی خود اپنی ذات، یا سیلف (self) ہے۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ خود انسان کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جس کو وہ اپنے باہر تلاش کر رہا ہے۔ اس ذہن کے تحت، یہ فرض کر لیا گیا کہ انسانی وجود کا صرف ایک منفی پہلو ہے، اور وہ موت ہے۔ لوگوں کو یہ یقین ہو گیا کہ جدید میڈیکل سائنس یہ مسئلہ حل کردے گی اور انسان ابدی طور پر اس دنیا میں جینے کے قابل ہو جائے گا۔ مگر میڈیکل سائنس بے شمار تحقیقات کے باوجود اس معاملے میں ناکام ہو گئی، جدید میڈیکل سائنس، انسان کو ابدی زندگی (longevity) کا فارمولا نہ بتا سکی۔ چناں چہ یہ نظریہ معبودیت بھی بے بنیاد ثابت ہو کر ختم ہو گیا۔ اب انسانی علم اُس مقام پر پہنچا ہے، جہاں اس کے لیے صرف ایک انتخاب (choice) باقی رہ گیا ہے، اور وہ یہ کہ وہ حقیقت پسند بنے اور اللہ واحد کو اپنا معبود تسلیم کر کے اس کے آگے جھک جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader