حقیقت توحید
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی حقیقت پسندانہ اعتراف میں انسان کی دنیوی کامیابی کا راز بھی ہے اور اسی میں اس کی اُخروی کامیابی کا راز بھی۔ قدیم شرک ، جدید شرک موجودہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی کے دو راستے ہیں — سیدھا راستہ اور بھٹکاؤ کا راستہ (النحل: 9)۔ سیدھا راستہ یہ ہے کہ آدمی خالق کو اپنی زندگی میں مرکزی مقام دے، وہ خالق کو اپنا سب کچھ بنالے۔ بھٹکاؤ کا راستہ یہ ہے کہ آدمی مخلوق میں گم ہو جائے، وہ مخلوق کی نسبت سے اپنی زندگی کا پورا نقشہ بنائے۔ پہلے طریقے کا نام توحید ہے، اور دوسرے طریقے کا نام شرک ہے۔ ہماری کائنات میں صرف دو چیزیں ہیں — خالق اور مخلوق۔ خالق کو اپنا کنسرن بنانے کا مذہبی نام توحید ہے، اور مخلوق کو اپنا کنسرن بنانے کا مذہبی نام شرک۔ جیسا کہ معلوم ہے، انسانیت کے آغاز ہی سے ہر زمانے میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور انسان کو صحیح اور غلط کی رہ نمائی دیتے رہے۔ ہر پیغمبر کا مشن ایک ہی تھا — انسان کو توحید کی طرف بلانا، اور اس کو شرک سے بچنے کی تلقین کرنا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ہر زمانے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader