قدیم شرک ، جدید شرک
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
میں توحید ایک تھی ، اسی طرح شرک بھی ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ قدیم شرک یا شرک کا قدیم ورژن (ancient version of shirk) نیچر پرستی (nature worship) پر قائم تھا۔ نیچر کی حیثیت مخلوق کی ہے۔ قدیم زمانے کے انسان نے نیچر کو معبود کا درجہ دے دیا۔ وہ نیچر پرستی کی بُرائی میں مبتلا ہو گیا ، یعنی خالق کی پرستش کے بجائے مخلوق کی پرستش کرنا ۔ اسی کو مظاہرِ فطرت کی پرستش کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ شرک اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ آج کا انسان بھی یہی کر رہا ہے کہ وہ خالق کے بجائے مخلوق کو اپنا سب کچھ (supreme concern) بنائے ہوئے ہے۔ قدیم شرک اور جدید شرک کے درمیان جو فرق ہے ، وہ ظاہر کے اعتبار سے ہے ، نہ کہ حقیقت کے اعتبار سے۔ قدیم انسان نے نیچر کو پرستش کا موضوع (object of worship) بنایا تھا۔ جدید انسان نے نیچر کو تفریح کا موضوع (object of entertainment) بنا لیا ہے۔ جذباتِ عبودیت کا مرکز پہلے بھی مخلوقات تھیں ، اور اب بھی جذباتِ عبودیت کا مرکز مخلوقات ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader