قدیم شرک ، جدید شرک
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے اندر جس طرح بھوک اور پیاس کا طاقت ور جذبہ موجود ہے، اُسی طرح یہ جذبہ بھی انسان کے اندر نہایت طاقت ور شکل میں موجود ہے کہ وہ اپنے محسن کے احسان کا اعتراف کرے۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان اس کا تحمّل نہیں کر سکتا کہ اُس کو کسی سے کوئی بڑی چیز ملے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ آدمی کا فطری مزاج یہ ہے کہ جب اُس کو کسی سے کوئی بڑا فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی پوری شخصیت چاہتی ہے کہ چیخ کر وہ اس کا اعتراف کرے۔ یہ انسان کی ایک ایسی صفت ہے جس سے کوئی بھی عورت یا مرد خالی نہیں۔ انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ سب خدا کا عطیہ ہے۔ خواہ اس کا اپنا وجود ہو یا اس کے باہر کا وہ پورا نظام جس کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے، سب کا سب اس کو خدا کی طرف سے یک طرفہ عطیہ کے طور پر ملا ہے۔ ایسی حالت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader