قدیم شرک ، جدید شرک
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ وہ اِن تمام عطیات (blessings) کے لیے ان کے مُعطی (giver) کا بھر پور اعتراف کرے۔ ان عطیات میں سے ایک قسم اُن عطیات کی ہے جو براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے انسان کو مل رہے ہیں۔ مثلاً ہوا اور پانی اور روشنی وغیرہ۔ اور دوسری چیزیں وہ ہیں جو بالواسطہ طور پر خدا کا عطیہ ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو انسان نے عالمِ فطرت میں دریافت کر کے خدا کی دی ہوئی عقل کے ذریعے اُن کو مختلف قسم کی مصنوعات میں تبدیل کیا ہے۔ مثلاً تمام قسم کے کنزیومر گُڈز (consumer goods)۔ یہ تمام عطیات تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے سارے دل اور سارے دماغ کے ساتھ اُن کا اعتراف کرے۔ لیکن خود ساختہ فلسفوں کے تحت، انسان نے یہ کیا کہ اُس نے عطیات کو لیا، اور اُن کے مُعطی (giver) کو حذف کر دیا۔ یہ ایک بھیا تک غلطی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی فطرت ایڈریس ہونے سے رہ گئی: The human nature was left unaddressed. یہ کسی انسان کے لیے ایک داخلی تضاد کا معاملہ ہے۔ موجودہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader