قدیم شرک ، جدید شرک
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
تحت، یہ ہوتا ہے کہ لوگ دین کی اسپرٹ (spirit) کو الگ الگ کر کے صرف اس کا ظاہری ڈھانچہ (form) لے لیتے ہیں، اور اسی ظاہری ڈھانچہ کی دھوم مچاتے ہیں۔ اِس ماحول میں لوگ ظاہری دین داری کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اپنے آپ کو دین دار ثابت کرنے کے بعد ہی وہ مسلمانوں کے اندر اپنی مطلوب جگہ بنا سکتے ہیں، وہ مسلمانوں کے اندر موجود تمام سماجی فائدے اپنے گرد اکٹھا کر سکتے ہیں، وہ مسلمانوں کے نمائندے بن کر ان کے درمیان ہر قسم کے قیادتِی مناصب پر قابض ہو سکتے ہیں۔ اِس قِسم کی ظاہری عبادت میں رِضائے الٰہی کی اسپرٹ موجود نہیں ہوتی، اِس لیے حدیث میں اِس کو شرک کا نام دیا گیا۔ سائنس کے دور میں اسی طرح جدید سائنس کے ظہور نے شرک کی دوسری بنیاد کو بھی ختم کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی دریافتوں کے ذریعہ یہ افسانہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا کہ فطرت کے مظاہر میں کوئی حقیقی تعدد ہے یا انھیں کوئی ذاتی عظمت حاصل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader