قدیم شرک ، جدید شرک
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
ومن صام يرائى فقد أشرك، ومن تصدق يُرائى فقد أشرك (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 126) یعنی جس شخص نے نماز پڑھی دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔ جس نے روزہ رکھا دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔ جس نے صدقہ کیا دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔ نماز اور روزہ اور صدقہ، خدا کی عبادتیں ہیں، پھر وہ شرک کیسے بن جاتے ہیں۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے، جب کہ مسلمانوں کا ایک معاشرہ بن جائے ۔ معاشرہ ایک دنیوی تنظیم ہے۔ ایسی تنظیم جب وجود میں آتی ہے، تو وہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ اب تمام مادی روابط اس سماجی تنظیم کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔ قیادت، مادی فائدے، انسانی تعلقات، تمام دنیوی نوعیت کی چیزیں سماج کے اندر وجود میں آجاتی ہیں، جس طرح وہ عام قسم کے سیکولر سماج میں موجود ہوتی ہیں۔ یہی وہ وقت ہے، جب کہ مسلمانوں کے درمیان مذکورہ قسم کا ’’شرک‘‘ وجود میں آتا ہے۔ اس کو سماجی شرک بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس سماج سے وابستہ ہر شخص کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے اندر اپنے سماجی اسٹیٹس کو برقرار (maintain) رکھے۔ اس نفسیات کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader