Urdu book · حقیقت کی تلاش

انسان کی نارسائی

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

سکتے، اسی طرح کائنات کے متعلق ہمارا علم بھی ایک تنگ دائرہ میں محدود ہے۔ جس کے آگے یا پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہمارا علم نامکمل ہے، ہمارے حواس خمسہ ناقص ہیں۔ ہم حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔ میدہ اور کا لک کو اگر ملایا جائے تو بھورے خاکستری رنگ کا ایک سفوف سا بن جاتا ہے، لیکن اس سفوف کا باریک کیڑا جو سفوف کے ذروں ہی کے برابر ہوتا ہے اور صرف خوردبین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے وہ اس کو کچھ سیاہ اور کچھ سفید رنگ کی چٹان سمجھتا ہے اس کے مشاہدہ کے پیمانہ میں خاکستری سفوف کوئی چیز نہیں۔ نوع انسانی کی زندگی اس زمانہ کے مقابلہ میں جب کہ یہ کرہ ارض وجود میں آیا اس قدر مختصر ہے کہ کسی شمار میں نہیں آتی، اور خود کرہ ارض کائنات کے اتھاہ سمندر میں ایک قطرہ کے برابر بھی نہیں۔ ایسی صورت میں انسان کا ئنات کی حقیقت کے بارے میں جو خیال آرائی کرتا ہے، اس کو اندھیرے میں ٹٹولنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہماری انتہائی لا علمی فوراً ظاہر ہو جاتی ہے جب ہم کائنات کی وسعت کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ اس بات کو سامنے رکھیں کہ آفتاب اسی کھرب سال سے موجود ہے اس زمین کی عمر جس پر ہم بستے ہیں دو ارب سال ہے، اور زمین پر زندگی کے آثار نمایاں ہوئے تین کروڑ سال گزر چکے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں زمین پر ذی عقل انسان کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ چند ہزار سال کا زمانہ جس میں انسان نے اپنی معلومات فراہم کی ہیں، اس طویل زمانہ کا ایک بہت حقیر جزء ہے جو کہ دراصل کائنات کے اسرار کو معلوم کرنے کے لیے درکار ہے۔ کائنات کے بے حد طویل ماضی اور نامعلوم مستقبل کے درمیان انسانی زندگی محض ایک لمحہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارا وجود ایک نہایت حقیر قسم کا درمیانی وجود ہے جس کے آگے اور پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہماری عقل کو عاجزی کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کی وسعت لا محدود ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے ہماری عقل اور ہمارا تجربہ بالکل ناکافی ہیں۔ ہم اپنی محدود صلاحیتوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page