حقیقت کی تلاش
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کا یہ تضاد ہم کو ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی عمر تو کھربوں سال ہو اور انسان جو کائنات کا خلاصہ ہے اس کی عمر چند سال۔ فطرت ہم کو بے شمار امنگوں اور حوصلوں سے معمور کرے مگر دنیا کے اندر اس کی تسکین کا سامان فراہم نہ کرے۔ پھر سب سے زیادہ سنگین تضاد وہ ہے جو مادی دنیا اور انسانی دنیا میں پایا جاتا ہے۔ مادی دنیا انتہائی طور پر مکمل ہے، اس میں کہیں خلا نظر نہیں آتا، مگر انسانی زندگی میں زبردست خلا ہے۔ اشرف المخلوقات کی حالت ساری مخلوق سے بدتر نظر آتی ہے۔ ہماری بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ اگر پٹرول کا کوئی نیا چشمہ دریافت ہو یا بھیڑ بکریوں کی نسل بڑھے تو اس سے انسان خوش ہوتا ہے، مگر انسانی نسل کا اضافہ ہمارے لیے گوارا نہیں۔ ہم اپنی مشکلوں سے اس قدر پریشان ہیں کہ انسان کی پیدائش کو روک دینا چاہتے ہیں۔ انسان کی نارسائی یہ سوالات ہم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں، وہ اندر سے بھی اہل رہے ہیں اور باہر سے بھی ہمیں گھیرے ہوئے ہیں، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا جواب کیا ہے۔ یہ زندگی کی حقیقت معلوم کرنے کا سوال ہے، مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ ہمیں زندگی تو مل گئی مگر اس کی حقیقت ہمیں بتائی گئی۔ اس حقیقت کی دریافت کے لیے جب ہم اپنی عقل اور اپنے تجربات کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا صحیح اور قطعی جواب معلوم کرنا ہماری عقل اور ہمارے تجربہ کے بس سے باہر ہے۔ اس سلسلہ میں اب تک ہم نے جو رائیں قائم کی ہیں وہ اٹکل سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ جس طرح ہماری نظر کا دائرہ محدود ہے اور ہم ایک مخصوص جسامت سے چھوٹی چیز کا مشاہدہ نہیں کر سکتے اور ایک مخصوص فاصلے سے آگے کے اجسام کو نہیں دیکھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader