پیغمبر کی ضرورت
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
جذباتِ شکر کا مستحق ہے اور وہی ہے جو تم کو پناہ دے سکتا ہے ۔ اس نے تمہارے لیے ایک لامحدود زندگی کا انتظام کر رکھا ہے جو موت کے بعد آنے والی ہے، جہاں تمہاری امنگوں کی تسکین ہو سکے گی، جہاں حق و باطل الگ الگ کر دیے جائیں گے اور نیکیوں کو کی نیکی کا اور بروں کو ان کی برائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس نے میرے ذریعہ سے تمہارے پاس اپنی کتاب بھیجی ہے جس کا نام قرآن ہے۔ جو اس کو مانے گا وہ کامیاب ہو گا اور جو اس کو نہ مانے گا ذلیل کر دیا جائے گا۔“ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز ہے جو چودہ سو برس پہلے عرب کے ریگستان سے بلند ہوئی تھی اور آج بھی ہم کو پکار رہی ہے۔ اس کا پیغام ہے کہ اگر حقیقت کو معلوم کرنا چاہتے ہو تو میری آواز پر کان لگاؤ اور میں جو کچھ کہتا ہوں اس پر غور کرو۔ کیا یہ آواز حقیقت کی واقعی تعبیر ہے، کیا ہمیں اس پر ایمان لانا چاہیے ۔ وہ کون سی بنیادیں ہیں جن کی روشنی میں اس کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس وقت تسلیم کریں گے جب کہ وہ انھیں نظر آئے ۔ وہ حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ مطالبہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص فلکیات کا مطالعہ ریاضی کے بغیر کرنے کی کوشش کرے اور کہے کہ وہ فلکیاتی سائنس کی صرف ان ہی دریافتوں کو تسلیم کرے گا جو کھلی آنکھوں سے اسے نظر آتی ہوں، ریاضیات کی دلیل اس کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے، یہ مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ آدمی کو اپنی قوتوں کا صحیح علم نہیں ہے۔ انسان کے پاس مشاہدہ کی جو قوتیں ہیں وہ نہایت محدود ہیں، حقیقت ہمارے لیے ایک ناقابل مشاہدہ چیز ہے ۔ ہم اسے محسوس تو کر سکتے ہیں مگر اسے دیکھ نہیں سکتے ۔ ایک زمانہ میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا چار چیزوں سے مل کر بنی ہے ۔ ”آتش و آب و خاک و باد“۔ دوسرے لفظوں میں قدیم انسان اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ حقیقت ایک ایسی چیز ہے جسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader