پیغمبر کی ضرورت
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھا جا سکتا ہے، مگر جدید تحقیقات نے اس کی غلطی واضح کردی ہے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی تمام چیزیں اپنے آخری تجزیہ میں ایٹم کے باریک ترین ذرات پر مشتمل ہیں ۔ ایٹم ایک اوسط درجہ کے سیب سے اتنا ہی چھوٹا ہوتا ہے جتنا کہ سیب ہماری زمین سے ۔ یہ ایٹم ایک طرح کا نظام شمسی ہے جس کا ایک مرکز ہے، اس مرکز میں پروٹان اور نیوٹران ہوتے ہیں اور اس کے چاروں طرف الکٹران (برقیے) مختلف مداروں میں اسی طرح حرکت کرتے ہیں جیسے سورج کے گرد اس کے تابع سیارے حرکت کرتے ہیں ۔ ایک برقیہ جس کا قطر سینٹی میٹر کا پانچ ہزار کرورواں حصہ ہو اور جو اپنے مرکز کے چاروں طرف ایک سیکنڈ میں کروروں مرتبہ چکر کاٹتا ہو اس کے تصور کی کوشش کرنا سعی لا حاصل ہے ۔ جب کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ اندرونی عالموں کی آخری حد ہے۔ ممکن ہے ان عالموں کے اندر ان سے بھی چھوٹے عالم ہوں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری مشاہدہ کی قوت کس قدر کمزور ہے، پھر سوال یہ ہے کہ پروٹان اور نیوٹران کے وہ انتہائی چھوٹے ذرے جو باہم مل کر مرکز (nucleous) بناتے ہیں وہ کس طرح قائم ہیں ۔ آخر یہ پروٹان اور نیوٹران مرکز سے باہر کیوں نہیں نکل پڑتے ۔ وہ کیا چیز ہے جو انھیں ایک دوسرے سے باندھے ہوئے ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان مادی ذرات کے درمیان ایک توانائی موجود ہے اور یہی توانائی مرکز کے برقی اور غیر برقی ذرات کو آپس میں جکڑے ہوئے ہے ۔ اس کو طاقت یکجائی (Binding Energy) کا نام دیا گیا ہے۔ گویا مادہ اپنے آخری تجزیہ میں توانائی ہے، میں پوچھتا ہوں، کیا یہ توانائی قابل مشاہدہ چیز ہے۔ کیا کسی بھی خوردبین کے ذریعہ اسے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید سائنس نے خود یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حقیقت اپنی آخری صورت میں ایک ناقابل مشاہدہ چیز ہے اس کو انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader