Urdu book · حقیقت کی تلاش

خالق کی تلاش

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوا اور یہ خلل بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے جس کو ہم ستارے، سیارے اور سحابئیے کہتے ہیں۔ کائنات کی یہ توجیہہ سائنس کی طرف سے پیش کی گئی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اس قدر بودی اور کمزور توجیہہ ہے کہ خود سائنس دانوں کو بھی اس پر کبھی شرح صدر حاصل نہ ہو سکا۔ یہ توجیہہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ کائنات کو پہلی بار کس نے حرکت دی مگر اس کے باوجود اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے کائنات کے محرکِ اول کو معلوم کر لیا ہے، اور اس محرکِ اول کا نام اس کے نزدیک اتفاق ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کائنات میں صرف غیر متحرک مادہ تھا، اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی تو یہ عجیب و غریب قسم کا اتفاق کہاں سے وجود میں آگیا جس نے ساری کائنات کو حرکت دے دی۔ جس واقعہ کے اسباب نہ مادہ کے اندر موجود تھے اور نہ مادہ کے باہر۔ وہ واقعہ وجود میں آیا تو کیسے ۔ اس توجیہہ کا یہ نہایت دل چسپ تضاد ہے کہ وہ ہر واقعہ سے پہلے ایک واقعہ کا موجود ہونا ضروری قرار دیتی ہے جو بعد کو ظاہر ہونے والے واقعہ کا سبب بن سکے مگر اس توجیہہ کی ابتدا ایک ایسے واقعہ سے ہوتی ہے جس سے پہلے اس کا سبب موجود نہیں۔ یہی وہ بے بنیاد مفروضہ ہے جس پر کائنات کی اتفاقی پیدائش کے نظریہ کی پوری عمارت کھڑی کر دی گئی ہے۔ پھر یہ کائنات اگر محض اتفاق سے وجود میں آئی ہے تو کیا واقعات لازمی طور پر وہی رخ اختیار کرنے پر مجبور تھے جو انھوں نے اختیار کیا۔ کیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا تھا۔ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ ستارے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جائیں۔ مادہ میں حرکت پیدا ہونے کے بعد کیا یہ ضروری تھا کہ یہ محض حرکت نہ رہے بلکہ ایک ارتقائی حرکت بن جائے اور حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ موجود کائنات کو وجود میں لانے کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔ آخر وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page