Urdu book · حقیقت کی تلاش

خالق کی تلاش

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

کون سی منطق تھی جس نے ستاروں کے وجود میں آتے ہی ان کو لامناہی خلا میں نہات باقاعدگی کے ساتھ پھرانا شروع کر دیا۔ پھر وہ کون سی منطق تھی جس نے کائنات کے ایک بعید ترین گوشہ میں نظامِ شمسی کو وجود دیا۔ پھر وہ کون سی منطق تھی جس سے ہمارے کرۂ زمین پر وہ عجیب و غریب تبدیلیاں ہوئیں جن کی وجہ سے یہاں زندگی کا قیام ممکن ہوسکا اور جن تبدیلیوں کا سراغ آج تک کائنات کی بیشتر دنیاؤں میں سے کسی ایک دنیا میں بھی معلوم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پھر وہ کون سی منطق تھی جو ایک خاص مرحلہ پر بے جان مادہ سے جاندار مخلوق پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ کیا اس بات کی کوئی معقول توجیہ کی جاسکتی ہے کہ زمین پر زندگی کس طرح اور کیوں وجود میں آئی اور کس قانون کے تحت مسلسل پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔ پھر وہ کون سی منطق تھی جس نے کائنات کے ایک چھوٹے سے رقبہ میں حیرت انگیز طور پر وہ تمام چیزیں پیدا کر دیں جو ہماری زندگی اور ہمارے تمدن کے لیے درکار تھیں، پھر وہ کون سی منطق ہے جو ان حالات کو ہمارے لیے باقی رکھے ہوئے ہے۔ کیا محض ایک اتفاق کا پیش آجانا اس بات کی کافی وجہ تھی کہ یہ سارے واقعات اس قدر حسنِ ترتیب کے ساتھ مسلسل پیش آتے چلے جائیں اور اربوں اور کھربوں سال تک ان کا سلسلہ جاری رہے اور پھر بھی ان میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ کیا اس بات کی کوئی واقعی توجیہ کی جاسکتی ہے کہ محض اتفاق سے پیش آنے والے واقعہ میں لزوم کی صفت کہاں سے آگئی اور اتنے عجیب و غریب طریقہ پر مسلسل ارتقاء کرنے کار جحان اس میں کہاں سے پیدا ہو گیا۔ یہ اس سوال کا جواب تھا کہ کائنات کیسے پیدا ہوئی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ اس کا چلانے والا کون ہے۔ وہ کون ہے جو اس عظیم کارخانے کو اس قدر منظم طریقہ پر حرکت دے رہا ہے۔ اس توجیہ میں جس کو کائنات کا خالق قرار دیا گیا ہے اسی کو کائنات کا حاکم نہیں قرار دیا جاسکتا یہ توجیہ عین اپنی ساخت کے اعتبار سے دو خدا چاہتی ہے۔ کیوں کہ حرکت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page