Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

خلیفہ راشد کے اس واقعہ میں عظیم الشان نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص سے ہمیں خواہ کتنی ہی زیادہ شکایت ہو، اس کے بارے میں اظہارِ رائے کرتے ہوئے ہمیں ہمیشہ انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اختلاف کو حد کے اندر رکھنا چاہیے، نہ یہ کہ اختلاف پیدا ہونے کے بعد ہم حد کے باہر نکل جائیں۔ آخرت رخی سوچ غزوہ ذات السلاسل کا واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص کو لشکر کا سردار مقرر کیا۔ مگر پورا لشکر یک وقت تیار نہ تھا۔ آپ نے عمرو بن العاص کو ایک دستہ کے ساتھ پہلے روانہ کر دیا۔ اس کے بعد دوسو مہاجرین و انصار کے ساتھ دوسرا دستہ تیار ہوا اور ابو عبیدہ بن الجراح کی سرداری میں روانہ ہوا۔ جھنڈا دیتے ہوئے آپ نے ان کو جو نصیحتیں کیں، ان میں سے ایک یہ تھی: جب تم اپنے ساتھی (عمرو بن العاص) سے ملو تو تم دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف مت کرنا۔ إِذَا قَدِمْتَ عَلَى صَاحِبِكَ فَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا۔ ابو عبیدہ کا دستہ جب مدینہ سے چل کر عمرو بن العاص کے پاس پہنچا تو نماز کا وقت آگیا تھا۔ صفیں کھڑی ہوئیں، ابو عبیدہ نے چاہا کہ امامت کریں۔ عمرو بن العاص نے اس سے اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا آپ میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ آپ امامت کریں جب کہ اصل امیر میں ہوں۔ ابو عبیدہ کے دستہ کے لوگ جن میں ابو بکر و عمر بھی تھے، نے کہا کہ عمرو بن العاص اپنے دستہ کے امیر ہیں اور ابو عبیدہ اپنے دستہ کے عمرو بن العاص نے اس تقسیم سے اتفاق نہیں کیا، اور کہا: تم لوگ میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہو (إِنَّمَا أَنْتُمْ مَدَدٌ أُمِدِدْتُ بِكُمْ)، پس میں ہی قائد ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page