حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو عبیدہ بن الجراح نے جب اختلاف بڑھتے دیکھا تو انھوں نے اپنا حق واپس لے لیا، اور کہا کہ رسول اللہ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ تم عمرو بن العاص سے ملو تو جھگڑا مت کرنا، اتفاق کے ساتھ کام کرنا: وَإِنَّكَ وَاللَّهِ إِنْ عَصَيْتَنِي لأُطِيعَنَّكَ۔ یعنی، خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو تب بھی میں تمھاری اطاعت کروں گا (مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 771)۔ اختلاف کے باوجود اعتراف صحابہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست تربیت پائی ہو۔ صحابہ کا ہر قول اور ہر عمل پیغمبر اسلام کی تربیت کا نتیجہ تھا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صحابہ پیغمبرانہ اخلاقیات کا توضیحی نمونہ (extended example) تھے۔ صحابہ کے دو گروہ تھے انصار اور مہاجرین۔ مہاجر صحابہ میں سے دو کے نام یہ ہیں: سعد بن ابی وقاص (وفات 55ھ)، خالد بن الولید (وفات 21ھ)۔ ان دونوں کے تعلق سے ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ روایت یہ ہے: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ، وَبَيْنَ سَعْدِ كَلَامٌ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ رَجُلٌ خَالِدًا عِنْدَ سَعْدٍ، قَالَ: فَقَالَ سَعْدُ: مَهْ، فَإِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا ( مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 25535 )۔ یعنی، خالد بن الولید اور سعد کے درمیان (نزاعی) تکرار ہو گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک شخص نے سعد سے خالد کی برائی بیان کی۔ تو سعد نے کہا: دور ہو، ہم دونوں کے درمیان جو معاملہ ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے گا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو صحابی، سعد بن ابی وقاص اور خالد بن الولید کے درمیان کوئی ذاتی نزاع پیدا ہو گئی۔ کسی معاملے پر بات کرتے ہوئے دونوں کے درمیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader