اتحاد کی طاقت
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائیکو براہی اور کیپلر دونوں ہم عصر تھے۔ مگر ایک چیز دونوں کے لیے کسی بڑی فلکیاتی دریافت میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ دونوں میں سے کوئی بھی اپنے موضوع کے ہر گوشہ پر مہارت نہیں رکھتا تھا۔ ٹائیکو براہی نے کثرت سے فلکیات کا مشاہدہ کیا تھا۔ وہ اپنے مشاہدات کو قلم بند کرتا رہتا تھا، فلکیاتی مشاہدات کے بارے میں یہ تحریری ذخیرہ اس کے پاس کافی مقدار میں جمع ہو گیا تھا۔ مگر علم الافلاک کا دوسرا پہلو ریاضی سے تعلق رکھتا ہے، اور ٹائیکو براہی ریاضی میں کمزور تھا۔ اس بنا پر اس کو یہ قدرت حاصل نہ تھی کہ اپنے مشاہدات کو ریاضی کی کلیات میں مربوط کر سکے۔ دوسری طرف کیپلر کا معاملہ تھا کہ وہ فلکیاتی مشاہدہ میں کوئی مہارت نہیں رکھتا تھا۔ وہ بہت کم مشاہدہ کرتا تھا۔ اس کے زمانہ میں اگرچہ دوربین دریافت ہو چکی تھی، مگر عملاً وہ دوربین سے کام نہ لے سکا تھا۔ اس کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ وہ ریاضیات کا ماہر تھا اور حسابی طور پر اس نے فلکیات کے بارے میں بہت سے قیمتی نظریات وضع کیے تھے۔ یہاں ٹائیکو براہی کی فراخ دلی نے کام کیا۔ ٹائیکو براہی اور کیپلر میں اگرچہ ذاتی اختلافات تھے۔ حتی کہ کیپلر نے اپنے ایک خط میں ٹائیکو براہی پر منافقت کا الزام لگایا تھا اور اس کو بہت برا بھلا کہا تھا، مگر ٹائیکو براہی نے، اپنی تیز مزاجی کے باوجود، کیپلر پر غصہ نہیں ہوا۔ آخر وقت میں اس نے سوچا کہ میرے علمی ذخیرہ کا سب سے بہتر وارث کیپلر ہی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے کیپلر کی گستاخیوں کو بھلاتے ہوئے اس کو اپنے پاس بلایا اور 1601 میں اپنی موت سے پہلے اپنا پورا تحریری ذخیرہ بلا معاوضہ کیپلر کے حوالہ کر دیا۔ جب ٹائیکو براہی کے مشاہدات کا سارا سرما یہ کیپلر کے پاس آگیا تو کیپلر کی کمی کی تلافی ہوگئی۔ اب اس نے اپنے دماغ کی تمام ریاضیاتی قوت کو ان مشاہدات کے ساتھ مربوط

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader