حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
کریمیا سے واپس آگئے اور دوبارہ حکومت کا عہدہ سنبھال لیا۔ عام طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ گورباچوف کا زندہ بچ جانا اور دوبارہ صدر کے عہدہ پر واپس آ جانا یلتسین کا کارنامہ ہے۔ بلند فطرت آدمی کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔ مشکل وقت میں وہ شکایت اور اختلاف کو بھلا کر انسان کا ساتھ دیتا ہے۔ جبکہ پست فطرت آدمی کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ حل رخی پالیسی موجودہ سال کا غالباً سب سے زیادہ اہم واقعہ سوویت روس اور امریکہ کی وہ مفاہمت ہے جس کو ٹائم (30 مئی 1988) نے بجاطور پر عظیم اتحاد (grand compromise) کا نام دیا ہے۔ سوویت روس اور امریکہ دونوں دنیا کی سب سے بڑی طاقت (superpowers) شمار ہوتے ہیں۔ پچھلے 70 سال سے دونوں کے درمیان سخت رقابت جاری تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ٹکراؤ کی پالیسی پر قائم تھے۔ دونوں ملکوں کے پریس اور میڈیا کا کام یہ تھا کہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں اور ایک دوسرے کی مذمت کرتے رہیں۔ مگر لمبے تجربہ کے بعد، اب دونوں ٹکراؤ کے بجائے صلح کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ ہتھیاروں کی دوڑ کے بجائے بات چیت کی دوڑ پر اپنی توجہ لگائے ہوئے ہیں۔ وہ رقابت کے طریقہ کو چھوڑ کر مفاہمت کے طریقہ کو اپنا رہے ہیں۔ سوویت روس کے ایک ذمہ دار نے اس نئی پالیسی کو حل رخی (solution-oriented) پالیسی کا نام دیا ہے۔ اس سے پہلے دونوں کی تمام توجہ اگر اس پر جمی ہوئی تھی کہ وہ ایک دوسرے کو غلط ثابت کریں تو اب انہوں نے اس قسم کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader