حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام توجہ اس پر لگادی ہے کہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ یہ واقعہ جو سوویت روس اور امریکہ کے درمیان پیش آیا ہے، اس میں دوسری قوموں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ موجودہ زمانہ میں اختلاف اور ٹکراؤ کی پالیسی اتنا مہنگا سودا بن چکی ہے کہ بڑی طاقت بھی اس کا تحمل نہ کرسکیں۔ پھر چھوٹی قومیں کیوں کر اس تباہ کن مشغلہ کا تحمل کرسکتی ہیں۔ ایک تقابل طرابلس (لیبیا) میں 24-28 ستمبر 1990 ء کو ایک انٹرنیشنل اسلامی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کی دعوت کے مطابق ایک سفر ہوا۔ وہاں ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اختلاف موجودہ دنیا کا ایک ناگزیر ظاہر ہ ہے۔ وہ قیامت تک باقی رہے گا۔ ہمارا اصل کام حالت اختلاف کو ختم کرنا نہیں ہے، کیوں کہ وہ ممکن نہیں۔ ہمارا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنائیں کہ وہ اختلاف کو پرامن دائرہ میں حل کرنے کی کوشش کریں۔ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے برداشت کو کھودیا ہے۔ اختلاف پیدا ہوتے ہی فوراً وہ جارحیت پر اتر آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ روس اور امریکہ کے درمیان اختلاف تھا۔ دونوں کے پاس انتہائی طاقتور ہتھیار موجود تھے۔ مگر اس کے باوجود وہ سختی کے ساتھ اس پر قائم ہیں کہ ہر اختلاف کو میز پر طے کرنے کی کوشش کریں۔ خلیج میں عراق اور کوویت کے درمیان اختلاف تھا۔ عراق کے پاس اتفاق سے کچھ طاقت آگئی۔ اس نے فوراً کوویت کے خلاف فوجی اقدام کر دیا۔ دوسری طرف اسی معاملہ میں امریکا کو عراق سے شدید ترین اختلاف ہے۔ وہ اپنی فوجیں لیے ہوئے خلیج میں کھڑا ہوا ہے۔ مگر کئی مہینے گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس نے عراق پر فوجی حملہ نہیں کیا۔ مسلمانوں کے اسی مزاج نے انہیں موجودہ دنیا میں برباد کر رکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader