Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر موجودہ اسلامی اداروں میں اکابر پرستی اور شخصی تقلید کا ماحول اتنی گہرائی کے ساتھ چھایا ہوا ہے کہ وہاں صرف تنگ نظر اور مقلد انسان ہی بن سکتے ہیں۔ ان اداروں سے مجتہدانہ اوصاف والی شخصیت کا پیدا ہونا ممکن ہی نہیں۔ ان اداروں سے کسی اعلیٰ انسان کا ابھرنا ویساہی ایک عجوبہ ہوگا جیسا کسی قبرستان سے ایک زندہ انسان کا نکل آنا۔ امریکا کی مثال نومبر۔ دسمبر 1999 میں امریکا کے لیے میرا دسواں سفر ہوا۔ میں اپنے سفروں میں ہمیشہ وہاں کے حالات جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ موجودہ زمانہ میں امریکا کو مادی اعتبار سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس کا راز میں نے یہ جانا کہ امریکا کے لوگ کٹر ذہن کے نہیں ہیں۔ وہ تجربہ سامنے آنے کے بعد فوراً اس کے مطابق اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فرق و اختلاف انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ سے ہے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں وہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوں۔ بالفرض اگر ہم مذہبی فرق کو ختم کر دیں تب بھی ہزاروں معاملات ایسے باقی رہیں گے جن میں لوگوں کے درمیان فرق و اختلاف موجود ہوگا۔ ایسی حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ مجموعی انسانی زندگی کے لیے اتحاد کا فارمولا دریافت کیا جائے، نہ کہ صرف مذہبی شعبہ کے لیے۔ اور یہ فارمولا صرف ایک ہے— اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرنا اور باہم مل جل کر رہنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page