Urdu book · حکمتِ اختلاف

مغربی دنیا، مسلم ادارے

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

سیکولرزم کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو اس کو سارے عالم پر غالب کیے ہوئے ہے۔ وہ یہی فراخ دلی اور برداشت ہے۔ مغربی جمہوریحت جس کو اب روس اختیار کر رہا ہے، وہ موافق اور مخالف کی اصطلاحوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتی ہے۔ وہ اپنے ایک مخالف کی پذیرائی کے لیے بھی تیار رہتی ہے۔ اس کی اسی صفت نے اس کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکے۔ موجودہ زمانہ کے اسلامی اداروں کا حال اس معاملہ میں بالکل برعکس ہے۔ ان کے یہاں صرف اپنے موافق کے لیے جگہ ہے۔ جس شخص کو وہ اپنا مخالف سمجھ لیں، اس کے سایہ سے بھی وہ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ایک شخص اگر کسی اسلامی ادارہ کے "اکابر" پر تنقید کر دے تو اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علمی اور مدلل کیوں نہ ہو، اس کے بعد وہ شخص اس ادارہ کی نظر میں اتنا مبغوض ہو جائے گا کہ وہ معقول انداز میں اس کا نام بھی نہیں لے سکتے، کجا کہ اس کو اپنے ادارہ کے کسی پرو گرام میں شرکت کے لیے بلائیں۔ موجودہ اسلامی اداروں کی یہی کمزوری ہے جس نے ان کو آج کی دنیا میں بالکل بے قیمت بنا دیا ہے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہے کہ یہ ادارے سطحی انسانوں کی سرائے بن کر رہ گئے ہیں۔ کم از کم پچھلے پچاس سال کی بابت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مدت میں ان اداروں کے ذریعہ غالباً کوئی ایک بھی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جس کی آج کی دنیا میں کوئی اہمیت ہو۔ زندہ اور اعلیٰ انسان وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں کھلی تنقید اور آزادانہ اختلاف رائے کا ماحول ہو۔ ان اداروں میں یہ ماحول سرے سے موجود ہی نہیں، پھر وہاں اعلیٰ درجہ کے انسان کیوں کر پیدا ہو سکتے ہیں۔ آج اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لیے مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والے افراد درکار ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page