مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
کو معلوم ہوا کہ آج آپ جارہے ہیں تو وہ آپ سے ملنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ یہ زیادہ تر یورپ کے ملکوں سے تعلق رکھتے تھے۔ چنانچہ انگریزی میں تقریباً 10 منٹ تک ان کے سامنے خطاب کیا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ یہاں روحانی اتحاد کے عنوان پر جمع ہوئے ہیں۔ اس نسبت سے چند باتیں میں قرآن کے حوالے سے کہوں گا۔ قرآن میں یہ تصور دیا گیا ہے کہ تمام انسان ایک ہی صحیح فطرت پر پیدا کیے جاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف، جھگڑے، غلط فہمیاں یہ سب چیزیں انسانی شخصیت کا اصل حصہ نہیں ہیں، یہ سب اوپری چیزیں ہیں۔ جہالت، حرص، تعصب، کینہ وغیرہ ان کے اسباب ہیں۔ یہ سب چیزیں وقتی طور پر آدمی کی فطرت کو ڈھک لیتی ہیں۔ اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اندر کی یکساں فطرت بے نقاب ہو کر سامنے آجائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی اتحاد تو اپنے آپ سارے انسانوں کے درمیان موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اوپر کے پردوں کو ہٹا دیا جائے۔ پردہ ہٹنے کے بعد جو چیز حاصل ہوگی وہ وہی ہوگا جس کو ہم روحانی اتحاد کہتے ہیں۔ ☆☆☆☆☆ سینیگال کے سفر (1990) میں ایک بار ہوٹل کے لاؤنج میں آیا تو یہ دیکھا کہ کچھ افریقی مقامی زبان میں بات کر رہے تھے۔ میری سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہوٹل کے باہر نکلا تو جھاڑی میں ایک بلی تھی۔ اس نے ”میاؤں میاؤں“ کی آواز نکالی۔ اچانک خیال آیا کہ جانور تمام دنیا میں ایک ہی انداز پر بولتے ہیں۔ کوئی جانور جس طرح ہندوستان میں بولتا ہے، ٹھیک اسی طرح وہ یورپ اور افریقہ میں بھی بولتا ہے۔ مگر انسان کی بولیاں الگ الگ ہیں۔ حتیٰ کہ دنیا بھر میں ان کی کئی ہزار بولیاں ہوگئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader