مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر خیال آیا کہ یہ انسان کے حالت امتحان میں ہونے کا ایک پہلو ہے۔ جانوروں کا کوئی امتحان نہیں۔ اس بنا پر ان کی ہر نوع کے لیے ایک ہی بولی مقرر کر دی گئی۔ مگر انسان اس امتحانی میزان پر کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ خود اپنے ارادے سے متحد ہو۔ وہ اختلاف کے باوجود اتحاد کا ثبوت دے۔ جانوروں سے امتحان مطلوب نہ تھا، اس لیے انہیں از اول تا آخر حالت اتحاد میں رکھا گیا ۔ اس کے برعکس انسان سے امتحان مطلوب تھا۔ اس لیے انہیں حالت اختلاف میں ڈال دیا گیا اور پھر کہا گیا کہ تم اپنے اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے اتحاد کا ثبوت دو۔ ☆☆☆☆☆ 4 مئی 1990ء کی سہ پہر کو جنیوا سے ڈکار کے لیے روانگی ہوئی۔ میری سیٹ کھڑکی سے ملی ہوئی تھی۔ باہر کی طرف دیکھا تو جہاز کا ”پر“ لمبا پھیلا ہوا تھا۔ پر (wing) کے اوپر انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ اس کے آگے نہ چلیں : Do not walk outside this area. ہوائی جہاز جب ایئر پورٹ پر کھڑا ہوتا ہے تو کارکن حضرات اس کو چیک کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی شخص چلتا ہوا پر کے اوپر پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اس کو پر کے اوپر چلنے سے منع کر دیا گیا۔ کیونکہ ہوائی جہاز کا پر اس کا کمزور حصہ ہے۔ وہ انسانی بوجھ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ ہوائی جہاز کے پر (wing) کے اوپر مذکورہ الفاظ پڑھتے ہوئے مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی کچھ حدیں ہیں تم ان حدوں سے تجاوز نہ کرو۔ وَحَدُّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا (المعجم الصغیر للطبرانی، حدیث نمبر 1111) ۔ "حد" کا معاملہ دنیا اور آخرت دونوں قسم کے معاملات میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں عالموں میں وہی لوگ کامیاب رہیں گے جو حد کو جانیں۔ مثلاً کسی سے آپ کو اختلاف ہو تو علمی تردید کی حد تک آپ جا سکتے ہیں۔ اس کے آگے الزام تراشی اور کردار کشی اور سب وشتم کے لیے زبان و قلم کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader