Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی معاملہ پوری ملت کا ہے۔ لوگ جو کچھ چاہتے ہیں اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے وہ تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مطلوب چیز بھی ان کو نہیں ملتی مثلاً ہر آدمی اتحاد کی بات کرتا ہے مگر وہ اختلاف اور شکایت کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ یہ اتحاد کی واحد قیمت ہے۔ لوگ سچائی کی بات کرتے ہیں، مگر وہ راہ حق میں لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں پر صبر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ صبر کے بغیر خدا کے پیغام کو عام کرنا ممکن ہی نہیں۔ لوگ ملت کی تعلیم و ترقی کی بات کرتے ہیں مگر وہ نزاعات کو اوائڈ کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ تعلیم و ترقی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نزاعات کو ہر حال میں اوائڈ کیا جائے۔ ☆☆☆☆☆ لندن کے سفر (1992) میں ماہنامہ صراط مستقیم کے مدیر محترم نے ایک انٹرویو لیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو ہر ایک سے اختلاف ہے اور آپ دوسری جماعتوں سے کٹ کر اپنا ایک نیا دین پیش کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات سراسر غلط ہے۔ میں نے کہا کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اساسیات میں اختلاف، اور دوسرا فروع میں اختلاف۔ میرا اساسیات میں کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔ مثلاً تمام لوگ رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتے ہیں تو میں بھی رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتا ہوں۔ میرا جو کچھ اختلاف ہے وہ فروعات میں ہے اور فروعات میں اختلاف صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہا اور علما کے درمیان ہمیشہ رہا ہے۔ یہاں اصل مسئلہ اختلاف کا نہیں بلکہ غیر ضروری حساسیت کا ہے۔ لوگ غیر ضروری طور پر اختلاف کے معاملہ میں حساس ہو گئے ہیں۔ اس بنا پر وہ فروع میں اختلاف کو وہ درجہ دینے لگے ہیں جو اساسیات میں اختلاف کا درجہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی یہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page