Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ اگر ان کی سرگرمیاں حقیقتاً اسلام کے لیے ہوتیں تو اختلاف کے وقت ایک شخص پیچھے ہو جاتا اور پھر اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا (جیسا کہ دو اصحابِ رسول ابو عبیدہ بن جراح اور عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما کے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے، دیکھیے زیرِ نظر کتاب کا مضمون : آخرت رخی سوچ)۔ مگر جب اصل مقصد لیڈری ہو اور اسلام کا نام محض نعرہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہی پیش آتا ہے۔ ☆☆☆☆☆ 3 جنوری (1994) کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے ساتھ امریکا میں ایک صاحب سے ملنے کے لیے روانہ ہوا۔ راستہ میں ہم لوگ ایک مقام سے گزرے۔ صغیر اسلم صاحب نے بتایا کہ پہلے ہم لوگ یہاں رہتے تھے۔ یہاں ان کے پاس چھ ہزار مربع فٹ کا مکان تھا۔ خوبصورت پارک کے کنارے کا یہ مکان بہت وسیع اور بہت شاندار تھا۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اپنے بچوں کی تربیت کے لیے اس کو چھوڑ کر مسجد کے قریب چھوٹا مکان لے لیا۔ یہ دوسرا مکان دو ہزار مربع فٹ کا ہے۔ علاقہ کے لحاظ سے بھی پہلا مکان نہایت اہم علاقہ میں تھا۔ جب کہ موجودہ مکان دوسرے درجہ کے علاقہ میں ہے۔ جب انہوں نے یہ مکان بدلا تو اکثر لوگ ان کا مذاق اڑا رہے تھے کہ اتنا اچھا مکان چھوڑ کر معمولی مکان میں آگئے۔ یہاں ہر آدمی بچوں کے بگڑنے کی شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر یہ شکایت میرے نزدیک بے معنی ہے۔ اس لیے کہ اس معاملہ کا تعلق بچوں سے زیادہ ان کے بڑوں سے ہے۔ بڑے لوگ اپنے چاہنے کی قیمت ادا نہیں کرتے اسی لیے وہ اپنے بچوں کی اصلاح نہیں کر پاتے۔ اگر آپ اپنے بچوں کو آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کے ماحول کو دنیوی شان وشوکت سے پاک کرنا ہوگا۔ اس کے بجائے اپنے آپ کو مسجد والے ماحول سے قریب کرنا ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page