Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

بمبئی کے سفر (نومبر 1993) میں عشا کی نماز کے بعد جناب جمشید علی سید کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ تعلیم یافتہ افراد اور الرسالہ کے قاری اس میں شریک ہوئے۔ میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ الرسالہ مشن اور موجودہ حالات میں اسلام کا طریق کار کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس کے بعد سوال و جواب کی صورت میں گفتگو دیر تک جاری رہی۔ عام طور پر لوگوں نے الرسالہ کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ اجتماع میں موجود جناب خلیل زاہدی صاحب نے میری ایک بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ ہر مسلمان ہندوؤں سے ذاتی تعلق میں اعراض اور ہم آہنگی کے اصول ہی پر عمل کرتا ہے مگر جب ملت کے پلیٹ فارم سے بولنا ہو تو وہ ٹکراؤ کی زبان بولنے لگتا ہے۔ اس دو عملی کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ حاجی مستان مرزا (67 سال) بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ نے بہت تجرباتی زندگی گزاری ہے۔ یہ بتائیے کہ مخالف کو جیتنے کا طریقہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: محبت، پیار۔ اگر آپ اپنے مخالف سے محبت کا سلوک کریں گے تو وہ بھی آپ ہی کی بولی بولنے لگے گا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ بقیہ علما سے میرا کوئی اختلاف نہیں۔ ان کے دل میں جو کچھ ہے اگر وہ وہی کرنے لگیں تو ان سے میرا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جائے۔ حاجی مستان صاحب نے اس کوسن کر کہا: ”پھر علمائے دین کے دل میں جو ہے وہ اس کو اپنی زبان سے کہہ دیں۔ تمام علمائے دین ایک اسٹیج پر آ کر اپنے دل کی بات تمام اہل اسلام کو بتا دیں۔“ جمشید سید صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ بزنس کرتے ہیں۔ بتائیے کہ بزنس میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا: کنٹرول ورسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page