Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

(controversy) سے بچنا اور اگر کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو میز پر بیٹھ کر اس کو طے کر لینا۔ میں نے کہا کہ یہ اصول جو ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کیے ہوئے ہے، اسی کو ہم کہتے ہیں کہ ملی معاملات میں بھی اختیار کر لو تو لوگ فوراً کہنے لگتے ہیں کہ الرسالہ بزدلی سکھاتا ہے۔ آخر لوگوں کی زندگی میں یہ دو عملی کیوں ہے۔ کیا دو عملی کا نام اسلام ہے۔ ☆☆☆☆☆ لندن میں ایک علمی ادارہ ہے جس کا نام ہے مسلم انسٹی ٹیوٹ۔ اس ادارہ کے تحت لندن میں حج کے موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمینار (4 تا 17 اگست 1982ء) ہوا۔ اس سیمینار میں شرکت کے لیے مجھے بھی دعوت دی گئی تھی۔ مرکزی لندن کے ایک ہوٹل میں ہمارے لیے قیام کا انتظام تھا، اس میں ایک بڑا کمرہ نماز کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ یہاں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاتی تھی، مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں کے مسلک بھی الگ الگ تھے۔ کوئی ایک ہاتھ کان پر رکھ کر اذان دیتا تھا اور کوئی دونوں ہاتھ۔ کوئی ہاتھ لٹکا کر نماز پڑھتا تھا کوئی ہاتھ باندھ کر۔ کوئی نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتا تھا اور کوئی بغیر دعا کے نماز ختم کر دیتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان اختلافی مسائل پر یہاں نہ کوئی بحث ہوئی اور نہ اختلاف ۔ ہر ایک دوسرے کے مسلک پر اعتراض کیے بغیر اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھتا اور پھر باہم اس طرح ملتا جیسے ان کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ”مربی علما‘‘ ان مشرقی علما سے بہتر ہیں، جو انہیں امور پر باہم لڑتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ دینی مسجدیں اور مدرسے سے الگ الگ بنا لیتے ہیں۔ یہ دراصل میدان اختلاف میں فرق کا سوال ہے، نہ کہ خود اختلاف کا۔ مشرقی علما جب کسی مختلف مسلک والے آدمی پر تنقید کرتے ہیں تو وہ کفر و فسق کی اصطلاحوں میں کلام کرتے ہیں۔ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page