Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہندوستانیوں میں یہ کمزوری ہے کہ ہم اکیلے اکیلے کام کر سکتے ہیں، مگر ہم سنگٹھن کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔ میں نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنگٹھن یا اتحاد کے ساتھ کام کرنے کے لیے اختلاف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں یہ مزاج نہیں۔ ہندوستانی انسان اپنی رائے دینا جانتا ہے مگر وہ اپنی رائے واپس لینا نہیں جانتا۔ جب کہ اتحاد کی یہ لازمی شرط ہے۔ اتحاد کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو زبان رکھتے ہوئے نہ بولیں۔ جو رائے رکھتے ہوئے اس کو ظاہر نہ کریں۔ جو اختلاف رکھتے ہوئے اس کو استعمال نہ کریں۔ ☆☆☆☆☆ 12 جون 1969 کو جمعیتہ علما گڑھ گاؤں کی مجلس عاملہ کا اجتماع تھا۔ ارکان عاملہ کے علاوہ ضلع کے مختلف مقامات سے دیگر علما کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ مدرسہ فیض الاسلام کی وسیع اور پُرفضا مسجد میں نمازِ عشاء کے بعد نشست ہوئی۔ اس اجتماع میں میں نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ملت کو سربلند کرنے کے لیے سب سے پہلے خود ملت کو بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں عالم یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی معاملہ میں ذرا سا بھی کسی سے اختلاف پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کا جانی دشمن بن جاتا ہے۔ جب تک ہمارے افراد میں کیریکٹر نہ ہو اور انہیں مل کر رہنا نہ آتا ہو کوئی اجتماعی کام سرے سے انجام نہیں دیا جا سکتا۔ پھر جب یہ ابتدائی چیزیں ہمارے درمیان موجود نہیں ہے تو ہم کوئی اگلا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page