Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

آپس میں خوب ملیں۔ وہ باہمی دوری کو ختم کریں۔ اس کے بعد بہت سی غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔ دوسرے یہ کہ جب جھگڑے یا اختلاف کی صورت پیدا ہو تو ایسے موقع پر آپ کا اصول ہونا چاہیے ؀ ٹکراؤ نہیں، تدبیر۔ یعنی ایسے مواقع پر آپ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ تدبیر کا طریقہ اختیار کریں۔ آپ بم پر بم نہ ماریں بلکہ بم کو ڈیفیوز کر دیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ جھگڑے کو اس کے پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیں گے۔ میری تقریر کے بعد کچھ ہندو جوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کبھی اس طرح سوچا نہیں تھا۔ مگر آج سمجھ میں آیا کہ یہی اصل بات ہے اور ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ☆☆☆☆☆ 14 دسمبر 1992ء کوڈفینس کالونی (نئی دہلی) میں بابری مسجد کے واقعہ کے بعد ایک ٹی وی پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف مذہبوں کے لوگ جمع ہوئے۔ پروگرام کے اینکر نے ہر ایک سے ایک ہی سوال کیا ”موجودہ حالات میں آپ دیش کے لوگوں کو کیا سینڈیش دینا چاہیں گے“۔ ہر مذہب کے نمائندہ نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت یہ ہے کہ امن قائم ہو اور نفرت کا خاتمہ کیا جائے۔ میں نے بھی یہی بات اپنے انداز سے کہی۔ میں نے مزید کہا کہ جب کچھ لوگ مل کر رہیں، تو خواہ وہ ایک گھر میں ہوں یا ایک ملک میں، بہرحال ایسے مواقع آتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اس لیے عملی طور پر امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب کہ اختلافی بات پیش آنے کے باوجود امن و محبت کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ☆☆☆☆☆

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page