Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

تاثرات و تجربات ایک صاحب نے کہا کہ دین میں اتنا زیادہ اختلاف ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ میں نے کہا کہ کس قسم کا اختلاف۔ انھوں نے کہا مثلاً ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ خدا کے لیے واحد کا صیغہ ہی استعمال کرنا چاہیے۔ اگر جمع کا صیغہ استعمال کیا تو جہنم میں جانے کا اندیشہ ہے۔ یعنی خدا رزق دیتا ہے، کہنا چاہیے، نہ کہ خدا رزق دیتے ہیں۔ اسی طرح کی عجیب عجیب باتیں میں نے کہا کہ اس کا حل بہت آسان ہے۔ جو شخص آپ سے اس قسم کی بات کہے، اس سے پوچھیے کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ قرآن میں کہاں لکھی ہے۔ اگر وہ قرآن سے اپنی بات کا ثبوت دے تو مانیے ورنہ مت مانیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ شخص کہے کہ قرآن میں سب بات کہاں ہے۔ تو آپ کہیے کہ پھر حدیث سے ثبوت دو۔ اور اگر وہ کہے کہ حدیث میں سب بات کہاں ہے تو اس سے کہیے کہ جو بات نہ قرآن میں ہو اور نہ حدیث میں تو ایسی بات کی ہمیں ضرورت بھی نہیں۔ 30 جنوری 1983 حدیث کا مطالعہ امت میں جتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا، اتنے بڑے پیمانے پر قرآن کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ مگر حدیث کا وہ عملی فائدہ امت کو نہ پہنچ سکا، جو امت کو اس سے پہنچنا چاہیے تھا۔ اس کی کم از کم ایک خاص وجہ یہ ہے کہ احادیث میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ امت کے علما چوں کہ ان اختلافات میں تطبیق کا کوئی متفقہ معیار دریافت نہ کر سکے، اس لیے حدیث کا مطالعہ بہت بڑے پیمانے پر اختلافات پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ حدیث کے اختلافات میں تطبیق کا میرے نزدیک واحد قابلِ عمل معیار یہ ہے کہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page