تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
کو حالات کے اختلاف پر محمول کیا جائے ۔ یعنی یہ مانا جائے کہ انسانی حالات چوں کہ ہمیشہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں، اس لیے حدیثوں میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا۔ کیوں کہ حدیثیں زیادہ تر وہ نصیحتیں ہیں جو مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف اوقات میں لوگوں کو دی گئیں۔ ایک مثال لیجیے۔ آپ اگر حدیث کی کتابوں میں ”اشربہ“ کا باب پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ مختلف روایتوں میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً بخاری اور دوسری کتبِ حدیث میں یہ روایتیں موجود ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پیا، اسی طرح صحابہ کرام نے کھڑے ہو کر پانی پیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5615)۔ دوسری طرف ایسی بھی حدیثیں ہیں جن میں واضح لفظوں میں کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع کیا گیا ہے۔ مثلاً مسلم اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا : نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2025)۔ اس مضمون کی روایتیں مختلف کتبِ حدیث میں الفاظ کے فرق کے ساتھ آئی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے : لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدُكُمْ قَائِمًا (السنن الكبرى للبيهقى، حدیث نمبر 14641؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2026)۔ اس اختلاف کی توجیہ و تطبیق میں بڑی بڑی بحثیں کی گئی ہیں۔ کچھ لوگوں نے ایک نوعیت کی حدیث کی تضعیف کر کے دوسری نوعیت کی حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ کسی نے ایک کو ناسخ اور دوسرے کو منسوخ قرار دیا ہے۔ امام نووی نے ممانعت کو کراہتِ تنزیہی پر محمول قرار دیا ہے، اور رسول اللہ اور صحابہ کرام کے کھڑے ہو کر پانی پینے کو جواز کے درجہ میں رکھا ہے (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد 13، صفحہ 195)۔ مگر میرے نزدیک ان میں سے کوئی توجیہ بھی درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ فرق حالات کی بنا پر ہے۔ نارمل حالات میں ایک شخص خواہ بیٹھ کر پانی پئے یا کھڑے ہو کر۔ اس سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ مگر ایک شخص مثلاً بھاگا ہوا چلا آ رہا ہے۔ وہ آتا ہے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader