تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے مدارس کا تعلیمی نظام فقہ پر قائم ہے۔ اگر مدارس کا نظام قرآن وحدیث پر قائم کیا جائے تو اس قسم کے جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں یزید کی ولی عہدی کے وقت حضرت بشیر کے پاس گیا، جو صحابہ میں سے تھے۔ میں نے ان سے یزید کے بارے میں اظہار خیال کے لیے کہا۔ انھوں نے کہا: يَقُولُونَ: اِنَّمَا يَزِيدُ لَيْسَ بِخَيْرٍ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ، وَلَكِنْ لَأَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَفْتَرِقَ ( تاریخ الاسلام للذهبي، جلد 4، صفحہ 87) ۔ یعنی ، لوگ کہتے ہیں کہ یزید امت محمد کے بہتر لوگوں میں سے نہیں ہے، اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔ لیکن امت محمدی کا اتفاق سے رہنا، مجھے افتراق کی بنسبت زیادہ پسند ہے۔ جس وقت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ کرام زندہ موجود تھے۔ مثلاً حسین بن علی ، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، اور عبدالرحمن بن ابی بکر اور دوسرے بہت سے جلیل القدر افراد ملت کے اندر موجود تھے۔ ایسی حالت میں یزید کو خلیفہ بنانا سخت قابل اعتراض ہو سکتا تھا۔ مگر تمام صحابہ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔ حضرت حسین کے سوا کسی نے بھی یزید کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ اصحاب رسول کی یہ خاموشی یقینی طور پر بزدلی کی بنا پر نہ تھی، بلکہ اسلامی حکمت کی بنا پر تھی۔ 1985 مارچ 7 ایک مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون مصافحہ کے شرعی طریقہ کے بارے میں ہے۔ اس میں ”احادیث نبوی“ کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا افضل ہے۔ تاہم ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader