Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ محدثین کا نقطہ نظر تھا۔ وہ صحابہ کے اختلاف کو توسیع پر محمول کرتے تھے۔ امام سفیان ثوری کا قول ہے: لَا تَقُوْلُوا اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِيْ كَذَا اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِيْ كَذَا قَدْ وَسَّعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى الْأُمَّةِ بِكَذَا (الميزان الكبرى للشعرانی ، جلد 1 ، صفحہ (162)۔ یعنی ، یہ نہ کہو کہ علما نے اس میں اختلاف کیا بلکہ یہ کہو کہ اس میں علما نے امت پر توسیع کیا ہے۔ فروعی امور میں صحابہ کے اختلافات جن کو محدثین نے توسیع قرار دیا تھا، انھیں اختلافات پر فقہا نے اپنی اپنی فقہ کی بنیاد رکھ دی۔ فقہا نے ان اختلافات کو لے کر یہ بحث شروع کر دی کہ کون صحیح ہے اور کون غیر صحیح۔ کون اولی ہے اور کون غیر اولی۔ کون افضل ہے اور کون غیر افضل۔ یہ بحثیں یقینی طور پر بدعت تھیں ۔ انھیں بحثوں کے نتیجہ میں امت کے اندر وہ اختلافات وانتشار پیدا ہوا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔ فقہا اگر ان فروعی اختلافات کو محدثین کی طرح توسیع کے خانہ میں رکھتے تو امت بے شمار یعنی جھگڑوں سے بچ جاتی۔ 14 جنوری 1985 انڈیا کے ایک عالم دین لندن کی ایک مسجد میں امام ہیں۔ وہ لندن جاتے ہوئے مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ”پاکستان کے فلاں عالم صاحب بہت بڑے عالم تھے۔ جزئیات فقہ پر ان کی نظر جتنی وسیع تھی شاید ہی ہندو پاک میں کسی دوسرے عالم کی ہو۔ گویا جزئیات دین کے عالم ہونے کا نام عالم ہے، اساسات دین کا عالم ہونے کا نام عالم نہیں۔ فقہ جب ابتداءً بنی تو اساسات دین کے مطالعہ کے لیے نہیں بلکہ مسائل دین کے مطالعہ کے لیے بنی۔ اس طرح فقہ پر جزئیاتی ذہن غالب آ گیا۔ اسی فقہ پر ہمارے موجودہ مدارس کی بنیاد قائم ہے۔ ہمارے مدارس میں جزئیاتی مسائل پر زبردست بحثیں ہوتی ہیں۔ حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ جزئیاتی مسائل کے عالم ہونے کا نام عالم ہے۔ اس طریقہ تعلیم نے ملت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ موجودہ زمانے کے دینی اختلافات کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page