Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جذباتی ردعمل کا طریقہ، اور دوسرا غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ۔ جو لوگ منفی ردعمل کی بنیاد پر جمع ہوتے ہیں، ان کی مثال بالکل جوار بھاٹا (tide) کی ہے۔ جوار بھاٹا جتنی تیزی سے اوپر اٹھتا ہے، اسی تیزی سے وہ نیچے بھی اتر جاتا ہے۔ یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو کسی مخالفانہ نعرے کی بنیاد پر اکٹھا ہوں ۔ کیوں کہ اس طرح اکٹھا ہونے والے لوگ منفی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ اگر اقتدار پر قبضہ پالیں تب بھی کوئی مثبت کام نہیں کر سکتے۔ وہ جتنی تیزی سے جمع ہوتے ہیں اتنی ہی تیزی سے دوبارہ منتشر ہوجاتے ہیں ۔ اس قسم کا منفی اتحاد مسلمانوں میں بھی کثرت سے دیکھا جاسکتا ہے۔ جذباتی ردعمل عین وہی چیز ہے جس کو میڈیکل اصطلاح میں الرجی (allergy) کہا جاتا ہے۔ الرجی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ الرجی نام ہے معتدل حالات میں غیر معتدل ردعمل کا: Abnormal reaction to normal things. مثلاً مخالفانہ نعرہ کو سن کر مشتعل ہو جانا، توہین کے کسی معاملہ پر بھڑک اٹھنا، اپنی سوچ کے خلاف سوچ کو برداشت نہ کر سکنا ، یہ سب جذباتی ردعمل کی صورتیں ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ دوسروں کے خلاف نفرت اور تشدد میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ زندگی کے مثبت اور تعمیری رخ کا تجربہ کرنے میں نا کام رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ ہے۔ اسی کو قرآن میں ہجر جمیل کہا گیا ہے (73:10)۔ یعنی جب اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات پیش آئے تو مشتعل نہ ہو کر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرنا، اور سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت معتدل انداز میں تعمیری اقدام کرنا۔ 19 مارچ 1985 صحابی رسول بشیر بن خصامیہ کا واقعہ ہے کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ سرکاری عمال صدقہ لینے میں ہم پر زیاد تیاں کرتے ہیں— اِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا، کیا ہم اپنے مال میں سے زیادتی کے بقدر چھپا لیں ، بشیر بن خصامیہ نے کہا: نہیں (سنن ابو داؤد،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page