Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث نمبر 1586)۔ اسی طرح سعد بن ابی وقاص کی ایک روایت میں ہے: اِدْفَعُوْھَا اِلَيْھِمْ مَا صَلَّوْا اِلْخَمْسَ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 343)۔ یعنی، جب تک وہ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، زکوٰۃ انھیں دیتے رہو۔ بنو امیہ کے زمانہ میں جب نظامِ خلافت بدل گیا اور حکام ظلم و تشدد پر اتر آئے، تو بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ایسے لوگ ہماری زکوٰۃ کے کیوں امین سمجھے جائیں۔ لیکن تمام صحابہ نے یہی فیصلہ کیا کہ زکوٰۃ انھیں کو دینی چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے ایک شخص نے پوچھا کہ اب زکوٰۃ کس کو دیں۔ کہا: وقت کے حاکموں کو۔ انھوں نے کہا: وہ تو زکوٰۃ کا روپیہ اپنے کپڑوں اور عطروں پر خرچ کر ڈالتے ہیں (اِذَا يَتَّخِذُوْنَ بِھَا ثِيَاباً وَّطَيِّباً)۔ ابن عمر نے کہا: وَإِنِ اتَّخَذُوُا ثِيَاباً وَّطَيِّباً (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 10191)۔ یعنی، اگرچہ وہ کپڑے اور عطر لے لیں (پھر بھی تم انھیں کو زکوٰۃ دو)۔ صحابہ نے یہ جو کہا، یہ کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں کہا۔ در حقیقت یہی اسلام کا حکم ہے۔ مسلمان کی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ اگر مسلم حکمرا نوں میں خرابی نظر آئے تو صرف یہ حکم ہے کہ ان کو درد مندی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ۔ موجودہ زمانہ کی طرح ایجی ٹیشن چلانا، ان کے خلاف عوامی ہنگامے کرنا سراسر نا جائز فعل ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اس قسم کی سیاست چلا رہے ہیں، وہ بلاشبہ مجرم ہیں۔ 21 ستمبر 1985 اجتماعی زندگی میں وہ انسان بہت قیمتی ہوتا ہے جو بلا شرط کسی مشن کا ساتھ دے۔ جو ساتھ دینے کے بعد مسائل کا جنگل نہ کھڑا کرے۔ صحابہ کرام نے تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب بر پا کیا۔ ان کی تحریکی صفات کو اگر ایک لفظ میں بتانا ہو تو کہا جا سکتا ہے ـ وہ بے مسئلہ لوگ (no-problem person) تھے۔ وہ اختلاف کو بھول کر مشن سے وابستہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page