Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

مزاج ہو۔ جب آپ اپنا یہ حق سمجھتے ہیں کہ آپ آزادانہ طور پر سوچیں، اور آزادانہ رائے قائم کریں تو فطرت کے قانون کے مطابق آپ کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ دوسرے شخص کو بھی یکساں طور پر اپنی رائے رکھنے اور اس کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اختلاف رائے کو کھلے ذہن کے ساتھ سننا، گویا حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرنا ہے۔ اسی اعتراف کا دوسرا نام سائنٹفک اسپرٹ ہے۔ فکری تعدد، فکری حریت اسلام میں فکری آزادی (intellectual freedom) کامل درجے میں پائی جاتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فکری آزادی کے بغیر خدا کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) پورا نہیں ہوسکتا۔ انسان کو موجودہ دنیا میں ابتلا (test) کے لیے رکھا گیا ہے اور یہ مقصد صرف اُسی وقت پورا ہوسکتا ہے جب کہ انسان کو اپنے قول وعمل کی پوری آزادی حاصل ہو۔ اسلام فکری آزادی کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے، لیکن فکری تعدد (intellectual diversity) کا تصور اسلام میں نہیں۔ اسلام کے مطابق، ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ جس رائے کو چاہے، اختیار کرے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر رائے باعتبارِ حقیقت بھی درست ہے۔ اس معاملے میں اسلامی تصور یہ ہے کہ باعتبار حقیقت تو صرف ایک ہی رائے درست ہے، لیکن باعتبارِ آزادی ہر انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے لیے اس دنیا میں جس رائے کو چاہے اختیار کرے۔ ابتلا کے سوا اس اصول کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ فکری آزادی کے ماحول میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان آزادانہ ڈسکشن ہو اور آزادانہ ڈسکشن سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ سماج کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل (process) جاری رہے۔ فکری آزادی کا تصور انسان کی ذہنی ترقی کے لیے بے حد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page