حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
فکری آزادی کے بغیر ذہنی ترقی ممکن نہیں۔ کسی سماج میں فکری آزادی کو ممنوع (taboo) قرار دینا صرف اِس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ سماج فکری جمود (intellectual stagnation) کا شکار ہو جائے۔ لیکن فکری تعدد کے نظریے کو اگر اصولاً درست مان لیا جائے تو اس کے نتیجے میں جو چیز پیدا ہوگی، وہ فکری انتشار (intellectual anarchy) ہے، اور فکری انتشار ایک غیر صحت مند (unhealthy) حالت ہے، فکری انتشار کسی آدمی کو کنفیوژن (confusion) کے سوا کہیں اور نہیں پہنچاتا۔ مخاصمت نہیں مخاصمت (opposition) اور اختلاف (difference) دونوں میں ایک چیز مشترک ہے، وہ یہ کہ دونوں کا آغاز ڈسپیوٹ (dispute) سے ہوتا ہے، لیکن عملی اعتبار سے دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، اختلاف پوری طرح ایک جائز فعل ہے اور مخاصمت پوری طرح ایک ناجائز فعل۔ درست اختلاف وہ ہے جو تمام تر علمی حقائق پر مبنی ہو، جس میں شروع سے آخر تک معلوم حقائق (objective facts) کی بنیاد پر گفتگو کی جائے۔ اس کے برعکس، مخاصمت میں ساری بحث داخلی نیت پر حملہ اور الزام تراشی پر ہوتی ہے۔ اختلاف میں رائے کا بدلنا ممکن ہوتا ہے۔ ایک فریق کی رائے اگر علمی تجزیے میں درست ثابت ہو تو دوسرا فریق کسی تاخیر کے بغیر اس کو تسلیم کر لیتا ہے۔ اختلاف کی حیثیت ایک علمی تبادلہ خیال (scientific discussion) کی ہوتی ہے۔ اس سے دونوں فریق کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، وہ دونوں فریق کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے۔ اختلاف اپنی حقیقت کے اعتبار سے، بحث وتکرار کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader