تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
مدت دو سال ہے۔ مگر امام ابو حنیفہ اس کی مدت ڈھائی سال بتاتے ہیں، اور امام زفر نے اس کی مدت تین سال بتائی ہے ۔قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ : ثَلَاثُونَ شَهْرًا، وَقَالَ زُفَرُ: ثَلَاثُ سِنِينَ (التفسیر المظہری، جلد 1، صفحہ 323)۔ قدما کے یہاں اس طرح کا اختلاف رائے کثرت سے پایا جاتا ہے۔ مگر اس قسم کے اختلافات کی بنیاد پر وہ لوگ ایک دوسرے کو مطعون نہیں کرتے تھے۔ بلکہ وہ تاویل سے کام لیتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں اگر کوئی شخص اس طرح اپنی مختلف رائے ظاہر کرے تو فورا ً اس کی تنقیص وتفسیق کی مہم شروع کردی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدما زند ہ لوگ تھے اور آج کل کے لکھنے اور بولنے والے مردہ لوگ۔ 15 جون 1991 بعد کے دور میں جو فقہی مذاہب بنے، ان میں حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کو زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان میں سے ہر ایک کے علما کا کہنا ہے کہ انھیں کا فقہی مسلک صحیح ہے اور دوسرے مسا لک غلط ہیں۔ تاہم چوں کہ حدیث کی کتابوں میں ہر قسم کی روایتیں ہیں۔ کسی روایت سے ایک مسلک کی تائید ہوتی ہے اور کسی روایت سے دوسرے مسلک کی، اس لیے ان میں سے کوئی مسلک کامل یقین کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس نزاکت کی بنا پر ایک فقیہ نے فقہا کی پوزیشن کو ان الفاظ میں ادا کیا ہے: مَذْهَبُنَا صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ وَمَذْهَبُ مُخَالِفِينَا خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الاشباه والنظائر لابن نجیم، صفحہ 330)۔ یعنی، ہمارا فقہی مذہب درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور دوسرے کا فقہی مذہب نادرست ہے احتمال صحت کے ساتھ۔ تطبیق دین یسر (آسان) کو دین عسر (مشکل) بنانا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مسالک کا اختلاف تنوع کی بنا پر ہے، نہ کہ اس بنا پر کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader