Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

صف بندی کے لیے حدیث میں جو حکم آیا ہے اس کا مطلب کیا ہے، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نماز کی صف میں خوب مل کر کھڑے ہو۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ شیطان صف کے درمیان میں بکری کے بچہ کی طرح داخل ہورہا ہے۔إِنِّی لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 667)۔ اس حدیث میں خلل کا مطلب مجرد جگہ (space) نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ جب لوگ پاؤں کو پھیلا کر ایک دوسرے سے ملیں گے تو خود ایک آدمی کے دونوں پیروں کے درمیان میں اتنی جگہ ہو جائے گی کہ اس کے اندر سے ” بکری کا بچہ “ گزر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں خلل سے مراد دو آدمیوں کے درمیان خلل ہے، نہ کہ دو پیروں کے درمیان خلل۔ اس حدیث میں اصل زور باہم مل کر کھڑے ہونے پر ہے۔ باہم مل کر کھڑا ہونا اتفاق کی علامت ہے اور منتشر انداز میں کھڑا ہونا اختلاف کی علامت۔ چنانچہ یہی بات دوسری روایت میں ان لفظوں میں ہے: اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 432)۔ یعنی ، صفوں میں برابر کھڑے ہو جاؤ اور آگے پیچھے نہ ہو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ 23 مئی 1991 قرآن میں ہے کہ بچہ والی عورتیں اپنے بچوں کو دو برس کامل دودھ پلائیں (2:233)۔ دوسری جگہ قرآن میں ہے کہ ماں کا اپنے بچہ کو دودھ چھڑانا دو برس میں ہوتا ہے (31:14)۔ اسی طرح حدیث میں ہے :لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ (سنن الدار قطنی، حدیث نمبر (4364) ۔ رضاعت صرف وہ ہے جو دو سال میں ہو۔ قرآن وحدیث میں دو سال کی واضح صراحت کی بنا پر جمہور کے نزدیک رضاعت کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page