Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل کرنے کے لیے دہی گئے۔ وہاں وہ شیخ کے یہاں پہنچے تو چندہ مانگنے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ ان کو بھی قطار میں بٹھا دیا گیا اور باری آنے پر دوسروں کی طرح انھیں ایک معمولی رقم دے دی گئی۔ انعام دار صاحب نے اس تجربہ کے بعد طے کیا کہ وہ چندہ کا طریقہ ختم کر دیں۔ انھوں نے مجوزہ عمارت کا پورا حصہ کرایہ پر دینے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح لوگوں سے بڑی قم بطور ایڈوانس حاصل کی اور اس سے بلڈنگ تیار کی۔ اب اوپر کی منزلوں میں تعلیمی ادارے ہیں اور نیچے کے تمام حصے کرایہ پر ہیں جن سے 30 لاکھ روپیہ سالانہ کرایہ آئے گا۔ اس تبدیلی پر کچھ ممبران نے مخالفت کا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ پہلے پوری عمارت تعلیم میں لینے کا منصوبہ تھا۔ پھر آپ نے اس کے نیچے کے حصوں کو کرایہ پر کیوں دے دیا۔ میں نے مخالفین سے کہا کہ آپ اتنی سی بات پر مخالفت کا جھنڈا اٹھارہے ہیں۔ صحابہ کرام نے اس سے بہت زیادہ بڑے قسم کے اختلافات کو برداشت کیا۔ اس کے بعد ہی اسلام کی تاریخ بن سکی۔ 8 دسمبر 1991 ء فقہ کا ایک اصول وہ ہے جس کو استحسان کہا جاتا ہے۔ فقہائے اربعہ میں سے تین نے اس کو مانا ہے۔ خاص طور پر احناف نے اس کو بہت استعمال کیا ہے۔ استحسان سے مراد یہ ہے کہ ظاہری قیاس کو چھوڑ کر اس طریقہ کو اختیار کرنا جو لوگوں کے لیے زیادہ مناسب ہو: الاسْتِحْسَانُ تَرْكُ القِياسِ وَالأَخْذُ بِمَا هُوَ أَوْفَقُ لِلنَّاسِ (المبسوط للسرخسی، جلد 10، صفحہ 145)۔ مثلاً ایک آدمی کسی جوتا ساز کے یہاں جاتا ہے۔ وہ اس سے جوتے کی قیمت طے کرتا ہے اور اپنا ناپ دے کر اس کو اپنے لیے ایک جوتا بنانے کا آرڈر دیتا ہے۔ قیاس کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیث کے مطابق، شریعت کا اصول یہ ہے کہ سودے کی موجودگی اس کی بیع کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اور مذکورہ مثال میں سودا (جوتا) ابھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page