تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
موجود نہیں مگر عرف عام کی بنا پر اس کو درست قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کا نام استحسان ہے۔ مگر امام شافعی اس کے سخت خلاف ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ جس آدمی نے استحسان سے کام لیا اس نے نئی شریعت بنائی: مَنِ اسْتَحْسَنَ فَقَدْ شَرَعَ، أَيْ وَضَعَ شَرْعًا جَدِيدًا (بیان المختصر شرح مختصر ابن الحاجب، جلد 3، صفحہ 280)۔ اس قسم کے بے شمار اختلافات فقہا کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ مگر آج ایسا کوئی اختلاف کیا جائے تو اس کو نہایت برا سمجھا جاتا ہے۔ 9 دسمبر 1991ء قرآن میں ہے: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا (17:84) یعنی، کہو کہ ہر ایک اپنے طریقہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمھارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی شاکلہ سے مطابقت کی بنا پر سمجھ لیتا ہے کہ یہ حق ہے۔ حالاں کہ حق وہ ہے جو علم الہی کے مطابق حق ٹھہرے۔ ہر آدمی کا ایک مزاج (mindset) ہوتا ہے جو اس کے حالات کے تحت اس کے اندر بن جاتا ہے۔ اسی کا نام شاکلہ ہے۔ اپنے اس شاکلہ کی بنا پر کوئی چیز اس کے لیے قابل قبول ہوتی ہے اور کوئی چیز ناقابل قبول۔ اپنے مخصوص مزاج کے تحت وہ کسی مسلک کو اختیار کر لیتا ہے اور آخر کار اس سے اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہی حق و صداقت ہے۔ مگر کسی کا ایک چیز سے مانوس ہو جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ حق بھی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی شاکلہ سے اپنے آپ کو نکالے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وہ کیا چیز ہے جو علم الہی کے مطابق صحیح ہے۔ موجودہ زمانہ میں اختلاف کو ایک بھیانک چیز سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ دور اول میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader