تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ اور فرمایا: وَاللَّهُ يَدْعُوكَ إِلَى دَارِ السَّلَامِ (25: 10) ۔ یعنی، اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مارکاٹ کی کتاب ہے، وہ قرآن سے انجان ہیں۔ وہ اپنے گیان کو قرآن کے آئینہ میں دیکھ رہے ہیں۔ مسٹر نراد چودھری (مقیم لندن) کا انٹرویو ٹائمز آف انڈیا اگست 1993 میں چھپا ہے۔ وہ بجا طور پر کہتے ہیں قرآن کے ٹیکسٹ میں مجھ کو کوئی بے ٹھیک بات نہیں ملی۔ جو بے ٹھیک باتیں ہیں وہ سب کمسٹری میں ہیں۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب (The Satanic Verses) کمسٹری کی بنیاد پر لکھی ہے، نہ کہ قرآن کے ٹیکسٹ کی بنیاد پر۔ میں نے کہا کہ کمسٹری ہر آدمی کا اپنا انٹرپریٹیشن ہوتا ہے۔ اور انٹرپریٹیشن میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ چنانچہ گیتا کے متعلق کچھ ہندو شارحین کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کی کتاب ہے۔ مگر اسی گیتا کو مہاتما گاندھی نے امن کی کتاب بتایا ہے۔ 8 ستمبر 1993 ایک ہندو جرنلسٹ مسٹر پیشونت دیش مکھ انٹرویو کے لیے آئے۔ ان کے مختلف سوالوں میں سے ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں آلو چنا (تنقید) کو برداشت نہیں کیا جاتا؟ میں نے کہا کہ یہ تو الٹی بات ہے۔ اسلام میں تو تنقید یا اختلاف کو پسند کیا جاتا ہے۔ ایک حدیث ہے کہ: اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنة للسخاوی، حدیث نمبر (39) ۔ اس میں اختلاف سے مراد وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں ڈسنٹ (dissent) کہا جاتا ہے یعنی اختلاف رائے۔ اسلام کے دور اول میں اختلاف رائے یا تنقید عام تھی۔ کوئی بھی آدمی کسی شخص پر تنقید کر سکتا تھا۔ اس سلسلہ میں دور اول کے کئی واقعات بتائے۔ مذکورہ جرنلسٹ بہت خوش ہوا۔ جاتے ہوئے اس نے کہا کہ اسلام کے بارے میں میرے بہت سے شبہات تھے۔ آج سب ختم ہو گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader