Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے سے اتحاد پیدا ہوتا ہے اور اختلاف کو برداشت نہ کیا جائے تو اس کا نام اختلاف ہے۔ زندہ انسان چوں کہ برداشت کی صفت کے حامل ہوتے ہیں اس لیے ان میں اتحاد پایا جاتا ہے۔ اور مردہ انسان چوں کہ برداشت سے خالی ہوتے ہیں اس لیے وہ بہت جلد اختلاف کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 10 مئی 1993 جمیل اختر صاحب مدینہ میں کام کرتے ہیں۔ آج کل چھٹی پر آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایک مولوی صاحب کو آپ کی کتاب ”تجدید دین“ پڑھنے کے لیے دی۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے ان کا تاثر پوچھا۔ انھوں نے کہا: سب ہفوات (بکواس) ہے۔ یہ شخص تو مجھے دشمنانِ اسلام کا ایجنٹ معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے مخالفین اکثر اسی قسم کا تبصرہ کرتے ہیں۔ وہ بلا دلیل محض الزامی الفاظ بولتے ہیں۔ اس طرح کسی کو مطعون کرنے کی اسلام میں اجازت نہیں۔ کسی مومن کی عزت پر حملہ کرنا اسلام میں ناجائز ہے۔ اور اس قسم کے تبصرے بلاشبہ عزت پر حملہ کے ہم معنی ہیں ۔ اسلام میں اختلاف جائز ہے مگر دشنام طرازی بلاشبہ حرام ہے۔ 24 اگست 1993 آج دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایک جلسہ تھا۔ وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ بہت بڑی تعداد میں دہلی اور دہلی کے باہر کے بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ہند جمع تھے۔ منچ پر ان کے اکثر بڑے بڑے لیڈر موجود تھے۔ مجھے بھی تقریر کے لیے بلایا گیا تھا۔ میں نے کہا کہ زندگی کے دو طریقے ہیں: الگاؤ واد اور ملاپ واد۔ اسلام کا طریقہ ملاپ واد کا ہے۔ چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے: وَالسُّلْحُ خَیْرٌ (4:128)۔ یعنی، اور صلح بہتر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page