تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
آج اپنے گھر کی تمام خواتین کو دفتر میں بٹھا کر سمجھایا کہ تم لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہیے۔ کیوں کہ باہمی اختلاف سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینہ میں اعتکاف میں تھے۔ آپ کو شب قدر کا علم دیا گیا۔ آپ مدینہ کی مسجد سے باہر نکلے کہ مسلمانوں کو اس کی متعین تاریخ بتا دیں۔ اس دوران انصار کے دو آدمی لین دین کی بات پر جھگڑنے لگے۔ اس پر شب قدر کا علم اٹھا لیا گیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 49)۔ اسی طرح احد کی جنگ میں مسلمانوں کی فتح ہو گئی۔ اس کے بعد کچھ مسلمان آپس میں نزاع کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیتی ہوئی جنگ دوبارہ ہار میں تبدیل ہو گئی۔ اس طرح کی مختلف مثالیں دے کر میں نے کہا کہ آپ لوگ مل جل کر رہیں تو یہاں برکت اور رحمت برسے گی۔ اور اگر جھگڑا اور نزاع شروع کر دیا تو آئی ہوئی برکت ختم ہو جائے گی۔ تمام خواتین رونے لگیں۔ دل سے یہ عہد کیا کہ سب کی سب مل جل کر محبت کے ساتھ رہیں گی۔ اختلاف یا شکایت ہو تب بھی ان کے باہمی تعلق میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ میرا خیال ہے کہ ہر گھر میں ایسا ہونا چاہیے کہ گھر والوں کا ہفتہ وار یا ماہوار اجتماع گھر کے اندر ہو۔ اس میں گھر کا بڑا مرد یا بڑی عورت لوگوں کو نصیحت کرے۔ اس سے گھر کے ماحول کو درست رکھنے میں بہت مدد ملے گی۔ 13 اگست 1994 ابن ماجہ (کتاب الفتن) میں ایک روایت کے تحت آیا ہے: فَإِذَا رَأَيْتُمُ اخْتِلَافًا فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3949)۔ یعنی، پھر جب تم اختلاف دیکھو تو تم سوادِ اعظم کے ساتھ رہو۔ اس حدیث کا مفہوم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اختلاف کے وقت سوادِ اعظم کا جو مسلک ہو وہی مسلک حق ہوگا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں۔ اس کی غلطی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader