Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے واضح ہے کہ آج برصغیر ہند میں 75 فیصد سے زیادہ لوگ اہل بدعت ہیں۔ پھر کیا اہل بدعت کا مسلک درست قرار دیا جائے گا۔ اس حدیث کا تعلق فتنے کے مسئلے سے ہے، نہ کہ حق کے مسئلے سے۔ فتنے کے وقت سوادِ اعظم کے ساتھ رہنا اسی طرح وقتی مصلحت کے معنی میں ہے جس طرح وقتی مصلحت کے تحت حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں شرک کرنے والوں سے تعلق کو برداشت کیا تھا (طہ، 20:94)۔ ایسے موقع پر اصل سوال چھوٹے شر اور بڑے شر کے درمیان انتخاب کا ہوتا ہے اور فتنے کے وقت سوادِ اعظم کے ساتھ رہنا اسی لیے ہے کہ اس سے ٹکراؤ زیادہ بڑے شر کا باعث ہوگا۔ سوادِ اعظم اگر اس وقت حق پر ہو تو معاشرے میں فساد کی نوبت ہی نہ آئے۔ کیوں کہ اقلیت ہمیشہ اکثریت کے تابع ہوتی ہے، نہ کہ جو اکثریت ہے وہ اقلیت کے تابع ہوجائے۔ 14 اگست 1994 شیخ محمد اکرام آئی سی ایس سرسید کے تذکرہ کے تحت لکھتے ہیں: سرسید کی تصانیف میں کئی ایسی باتیں ہوتی تھیں جن سے نہ صرف مخالف بلکہ ان کے موافق بھی بدظن ہوجاتے تھے۔ سرسید نے جب بائبل کی نامکمل تفسیر لکھی تو نواب محسن الملک کو اس کی عبارت اتنی شاق گزری کہ اس وقت سرسید سے تعارف نہ ہونے کے باوجود انھوں نے اس کے خلاف سرسید کو ایک طویل خط لکھا اور جب تک ان سے نہ ملے انھیں یقین نہ آتا تھا کہ سرسید قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتے ہیں (موج کوثر، صفحہ 91)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف اور غلط فہمی میں کتنا قریبی تعلق ہے۔ نواب محسن الملک کو سرسید کی تفسیر بائبل سے اختلاف ہوا۔ مگر یہ اختلاف یہاں تک پہنچ گیا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ سرسید نماز بھی اگر پڑھتے ہیں تو اسلامی قبلہ کی طرف رخ کر کے نہیں پڑھتے ہیں۔ حالاں کہ یہی نواب محسن الملک اختلاف کے بعد سرسید کے اتنے گرویدہ ہوگئے کہ ان کے قریبی رفیق بن گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page