Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

المیزان الکبریٰ میں عبد الوہاب شعرانی (وفات 973 ھ) نے سفیان ثوری (وفات 161 ھ) کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے: قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: ”لَا تَقُولُوا: اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي كَذَا، وَقُولُوا: قَدْ وَسَّعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى الْأُمَّةِ بِكَذَا (المیزان الکبری للشاعرانی، جلد 1، صفحہ 162)۔ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ نہ کہو کہ اس مسئلے میں علما نے اختلاف کیا ہے۔ بلکہ یہ کہو کہ علما نے ایسا کر کے امت کے لیے گنجائش پیدا کر دی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ میں اہل علم کی کئی رائیں ہوتی ہیں۔ ایسے معاملے میں ایک صورت یہ ہے کہ اس کو محض اختلاف قرار دیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس اختلاف کو توسع اور تننوع کے معنی میں لیا جائے۔ پہلی صورت میں لوگوں کے اندر منفی ماحول بنتا ہے اور دوسری صورت میں مثبت ماحول۔ 26 اپریل 1995 بعد کے زمانہ میں جو فقہ مرتب ہوئی اس میں ایک عجیب وغریب برائی یہ داخل ہو گئی کہ فرضی مثالیں وضع کر کے اس کی بنیاد پر احکام بتائے جانے لگے۔ مثلاً کسی زرخیز دماغ نے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ ہر وہ عورت جس سے میں نکاح کروں تو اس کو طلاق ہے (قَالَ كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِق) تو ایسے آدمی کے لیے شرعی مسئلہ کیا ہوگا۔ اب فقہا نے ”الجواب“ کہہ کر اس کا شرعی مسئلہ بیان کرنا شروع کر دیا۔ حنابلہ اور شافعی نے کہا کہ اگر وہ آدمی یہ بیان دے کہ میری مراد صرف فلاں بستی یا فلاں محلہ کی عورتوں سے تھی تو دوسری بستیوں سے نکاح اس کے لیے جائز ہوگا۔ کیوں کہ لفظ عام کی تخصیص نیت کے ذریعہ جائز ہے (الحاوی الکبیر للماوردی، جلد 10، صفحہ 25؛ مسائل حرب الکرمانی،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page