Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

جلد 1، صفحہ (382) ۔ مگر احناف نے کہا کہ نہیں، اس آدمی کی نیت دیانۃ تسلیم ہو سکتی ہے مگر وہ قضاء تسلیم نہیں۔ وہ دنیا کی جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، اس پر از خود ایک طلاق واقع ہو جائے گی (البحر الرائق، جلد 4، صفحہ 18)۔ اس قسم کے فرضی مسائل نے صرف امت کے اختلافات میں اضافہ کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید ہی کبھی کسی مرد نے ایسی قسم کھائی ہوگی۔ مگر اس کو فرض کر کے مسائل وضع کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ غیر ضروری بحثیں پیدا ہوئیں، اور اختلاف واقع ہو گیا۔ صحیح مسلک یہ ہے کہ فرضی سوالات کو ہرگز فتویٰ کا موضوع نہ بنایا جائے، نیز بہت کم مسائل پر فتویٰ دیا جائے۔ بیشتر مسائل کو اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ (مسند احمد، حدیث نمبر 18006) پر چھوڑ دیا جائے۔ یعنی، اپنے دل سے فتویٰ پوچھو۔ 10 جون 1995 آج ٹائمس آف انڈیا میں جواہر لaal نہرو کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ باہم مل کر رہنے کا واحد بدل یہ ہے کہ باہم ایک دوسرے کو تباہ کر دیا جائے: The only alternative to co-existence is co-destruction. یہ بات صاف ہے ۔ یہ دنیا اختلافات کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں لازماً ایسا ہوگا کہ ایک دوسرے کے درمیان شکایت کی بات ہو جائے ۔ یہاں باہمی شکایتوں کا پیدا ہونا یقینی ہے ۔ اس لیے عقلمند آدمی کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لے اور قابل شکایت باتوں کو نظر انداز کر کے جینے کی کوشش کرے ۔ اس کے برعکس اگر وہ ہر ایک شکایت پر بلڈوزر چلانا چاہے تو اس غیر فطری کوشش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خود اپنے آپ کو تباہ کرلے گا۔ قرآن میں ہے: وَلِذَلِكَ خَلَقَهُم (11:119) ۔ یعنی، اور اس نے اسی لیے ان کو پیدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page