Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

چیز فطرت کا حصہ ہو، اس کو ختم کرنا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد قائم کرنے کا ایک ہی ممکن طریقہ ہے، اور وہ ہے۔ اختلاف کو برداشت کرنا۔ اس دنیا میں جب بھی اتحاد قائم ہوگا، وہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے قائم ہوگا۔ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنا اس دنیا میں عملاً ممکن ہی نہیں۔ خالق نے انسان کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ ان کے درمیان ہمیشہ اختلاف پایا جائے۔ یہ اختلاف انسان کے لیے ایک عظیم رحمت ہے۔ اختلاف کی بنا پر دو شخصوں یا دو گروہ کے درمیان ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور ڈائیلاگ دونوں فریقوں کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بنتا ہے۔ اختلاف کی حیثیت ایک فکری چیلنج کی ہے۔ فکری چیلنج کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بند ذہن کے دروازے کھلتے ہیں، انسان کے اندر چھپے ہوئے امکانات ظاہر ہوتے ہیں، جو چیز بالقوہ (potential) طور پر ذہن میں موجود تھی، وہ بالفعل (actual) وقوع میں آجاتی ہے۔ اختلاف، رواداری رواداری (ٹالرنس) ایک اعلی انسانی اور اسلامی صفت ہے۔ رواداری کا مطلب دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اس کے مقابلہ میں عدم رواداری یہ ہے کہ آدمی صرف اپنے آپ کو جانے، وہ دوسروں کے تقاضے سے بے خبر ہو جائے ۔ رواداری ایک اعلی انسانی اسپرٹ ہے۔ اس کو شریعت میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً - رفق، تالیف قلب، شفقت على الخلق، وغیرہ۔ آدمی کے اندر جب خدا پرستی اور سچی دین داری آتی ہے تو وہ خود غرضی کے تحت پیش آنے والی تمام برائیوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page