Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

ختم کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ حقیقی معنوں میں کس کی غلطی تھی، بلکہ تواضع کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے فوراً خود اپنے کو غلط مان لیا جائے۔ اس طرح معاملہ فی الفور ختم ہو جائے گا۔ البتہ اگر معاملہ علمی یا دینی ہو، یعنی اس کا تعلق اصولی نوعیت کا ہو تو دلائل کے ذریعے اس کی وضاحت کی کوشش کرنا چاہیے۔ مگر یہاں بھی ضروری ہے کہ بات کو صرف دلائل تک محدود رکھا جائے، اُس کو ضد تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ دلیل کے ذریعے جو بات ثابت ہو جائے اُس کو دونوں فریق مان لیں۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ معاملہ ختم ہوگا، بلکہ وہ دونوں کے لیے ذہنی اور روحانی ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔ تخلیق میں تنوع قرآن میں مختلف مقامات پر انسان کی تخلیق کا قصہ بیان ہوا ہے۔ ان میں سے ایک جزء کا ترجمہ یہ ہے ۔ جب تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔ پھر جب میں اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا۔ پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ مگر ابلیس کہ اس نے گھمنڈ کیا اور وہ انکار کرنے والوں میں سے ہو گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے ابلیس، کس چیز نے تجھ کوروک دیا کہ تو اس کو سجدہ کرے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔ یہ تو نے تکبر کیا یا تو بڑے درجہ والوں میں سے ہے۔ اس نے کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے، اور اس کو مٹی سے۔ (38:71-76) یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ابلیس نے اپنی افضلیت کا دعویٰ خود اپنی زبان سے کیا تھا۔ اس کے برعکس ، انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی افضلیت کا بیان خود خالق نے اپنی زبان سے کیا ہے۔ ابلیس کی بات خود ساختہ دعویٰ کی ہے۔ جب کہ انسان کی افضلیت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page