Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

اعلان خود خالقِ کائنات نے کیا ہے۔ اللہ اور ابلیس کے درمیان اس مکالمے سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ کا جو منصوبہ ترقی کے بارے میں ہے، وہ اختلاف (diversity) سے تعلق رکھتا ہے، نہ کہ یکسانیت سے۔ جہاں یکسانیت ہوگی، وہاں ارتقارک جائے گا، اور جہاں اختلاف پایا جائے، وہاں ارتقا جاری رہے گا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو تنوع پسند ہے۔ اگر یکسانیت اللہ کا مطلوب ہوتا تو فرشتے، جنات اور انسان سب کو اللہ یکساں بنا دیتا۔ سب کی سوچ، سب کا ذوق، سب کا عمل، بالکل ایک طرح کا ہوجاتا۔ مگر اس دنیا کے خالق کو تنوع پسند ہے، نہ کہ یکسانیت۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کے قانون میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اسی فطری حقیقت کو اردو کے مشہور شاعر ذوق نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: گل ہائے رنگارنگ سے ہے زینتِ چمن اے ذوق اس جہاں کو ہے زیبِ اختلاف سے پختگی کیا ہے انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں : نا پختہ ذہن والے، اور پختہ ذہن والے۔ نا پختہ ذہن وہ ہے جو جذباتی طور پر سوچے، جو رومانی خیالات میں جئیے، جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے، نہ کہ حقائقِ حیات کی۔ اس کے مقابلے میں پختہ ذہن والا انسان وہ ہے جو اپنے جذبات سے اوپر اٹھ کر حقیقتوں کو سمجھے، جو اپنے ذہنی خول سے باہر آ کر چیزوں کو دیکھے اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی رائے قائم کرے۔ پختگی (maturity) اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی اُن چیزوں کے ساتھ نارمل طریقے سے رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا: Maturity is the ability to live with things you cannot change.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page